بدلتا فیشن

مزنہ رئیس

مزنہ رئیس 

بدلتا فیشن

آج کے فیشن کو جنگل میں لگی آگ سے تشبیہ دیا جا سکتا ہے. ہر شخص فیشن کی دوڑ میں شامل ہے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنا چاہتا ہے .
پاکستان اقتصادی طور پر بھلے مستحکم نہ ہو پر دنیائے فیشن میں ضرور مستحکم ہے۔ہر انسان یہی چاہتا ہے کے نئی روایتوں اور نئے زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلے ۔ اپنی زندگی میں مثبت تبدیلی لانا انسان کی فطرت میں شامل ہے . فیشن کا سب سے بڑا بدلاؤ خاص طور پر لباسوں میں دیکھا جا سکتا ہے .فیشن گِرگٹ کی مانند ہے جو کہ وقت کے ساتھ رنگ بدلتا رہتا ہے ، کبھی پیروں تک لمبی قمیض ہے تو کبھی گھٹنوں تک چھوٹی ، کبھی چوڑی دار پاجامہ ہے تو کبھی پٹیالا شلوار، کبھی چوڑے پائنچے والے فلیپر ہیں تو کبھی سگریٹ پینٹ غرض یہ کہ موسم سے ذیادہ تیز تبدیلی کی رفتار فیشن کی ہے۔ تہذیب کچھ یوں تھی کے خواتین لمبے بال اور مرد چھوٹے بال رکھتے تھے پر آج کا کلچر اس کے برعکس ہے۔ اب حالات یہ ہیں کہ ہر انسان فیشن کے جنون میں ہے اور یہ جنون وقت کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے . مگر حقیقت یہ بھی ہے کہ انسان کو زمانے کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلنے کے لئے ہر قدم اٹھانا پڑتا ہے اور یہ وقت کی ضرورت بھی ہے۔ اگر ایسا نہ کریں تو معاشرہ جاہل ، پسماندہ سوچ جیسے کلمات سے نوازتا ہے، جو کہ ہمارے معاشرے کا کڑوا سچ ہے۔ 
فیشن کو اندھی تقلیدبنانے میں مشہور شخصیات کا بھی حصہ ہے ۔ لوگ اپنے آئڈیل کے پہناوے، اسٹائل کو کاپی کرنا پسند کرتے ہیں ، نہ صرف پہناوا بلکہ ہیئر اسٹائل ,گلاسز ,جوتے ,پرس یہاں تک کہ ان کی طرح چال چلت کو بھی اپنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر چاہے سلمان خان کی طرح کندھوں تک بال ہوں یا عامر خان کی طرح گنجے سَر پر نشان کا فیشن ۔
مختلف ممالک میں فیشن بھی مختلف ہی دیکھے جاتے ہیں . ۲۰۱۵ کی درجہ بندی کے مطابق فیشن کی دنیا میں حکمرانی کا تاج انگلستان اور امریکا کے سر پر ہے ۔ ساری دنیا اور ہمارا ملک پاکستان بھی ان کے نقشِ قدم پر گامزن ہے۔ خاص طور پر اَپر کلاس طبقہ مغربی تہذیب کو اپنانا فیشن سمجھتا ہے۔ جسکی دیکھا دیکھی مڈل کلاس طبقہ بھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کی دوڑ میں لگ جاتا ہے۔ جس طرح جِینس شرٹ فیشن ہے اسی طرح اجرک سوٹ بھی ثقافتی فیشن ہے بس فرق بنانے والوں اور اسکے ذریعے کمانے والوں کا ہے۔ کشیدہ کاری، سندھی کڑھائی ، ور گج اور کاشی کا کام اندرونِ اور بیرونِ ملکوں میں اہمیت کا حامل ہے جس کی وجہ سے کئی غریب گھروں کا چولھا جلتا ہے۔ اسی فیشن کی وجہ سے جہاں روزگار کے مواقع ملتے ہیں وہیں مہنگی قیمتوں کی وجہ سے جیب پر بھاری اثرات بھی مرتب ہوئے ہیں ۔