انگریزی بولنے کا شوق

فاطمہ جاوید

انگریزی بولنے کا شوق
تحریر: فاطمہ جاوید
زبان اظہار اور علم کا ہی ذریعہ نہیں بلکہ شناخت بھی حصہ ہے۔ہماری شناخت ہو تی ہے پاکستان میں زبان کا مسئلہ روز اول سے پیچیدہ رہا ہے۔ ملک میں پہلے سے بولی جانے والی زبانوں سندھی، پنجابی، پشتو بلوچی ، سرائیکی کو علاقائی یا صوبائی زبانوں کا نام دے کر نظرانداز کیا گیا۔اقوام متحدہ کے اصولوں کے مطابق بچہ اپنی مادری زبان میں ہی اچھی تعلیم حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن یہاں پر مادری زبان کو اولیت نہیں دی گئی۔ یہاں تک کہ پنجابی اتنی بڑی زبان ہونے کے باوجود اسکولوں میں بھی نہیں پڑھائی جاتی۔جبکہ بھارت میں پنجابی اسکول سے لیکر یونورسٹی تک ذریعہ تعلیم ہے۔ سندھی، پنجابی، پشتو، بلوچی ، سرائیکی کو اس طرح سے نہیں ابھارا گیا جو ان کا حق تھا۔صورتحال یہ بنی ہے کہ نہ مقامی زبانیں ٹھیک سے ترقی کر سکیں اور نہ ہی اردو عملی طور پر جگہ لے سکی۔ اردو اور ان علاقائی و صوبائی زبانوں کے بجائے انگریزی زبان کوان پر فوقیت دی گئی ۔ 
انگریزی زبان کو ایک خاص طبقہ کی نمائندگی سے وابستہ کیا جاتا ہے ۔ انگریزی زبان ہی تعلیمی معیار سے وابستہ ہے۔ یہ عام تصور پایا جاتا ہے جو شخص انگریزی اچھی طرح سے بولتا ہو۔ بس وہی شخص صحیح معنوں میں تعلیم یافتہ ہے۔
عملی طور پر بھی انہی لوگوں کو ملازمتوں میں بھی ترجیح دی جاتی ہے جو اچھی طرح انگریزی زبان بو ل سکتے ہیں چاہے ان کی علمی قابلیت کچھ بھی نہ ہو۔ اس کے بر عکس وہ افراد جو صرف یہاں کی مقامی زبانوں یا اردو زبان میں مہارت رکھتے ہیں انکے لیئےَ ملازمتوں میں کوئی جگہ نہیں ہو تی ۔چاہے ان کی تعلیم قابلیت بہت زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔
انگریزی زبان کی اہمیت سے کسی کو کوئی اختلاف نہیں ہو سکتا کیونکہ یہ عالمی زبان ہے جس کے ذریعے بیک وقت دنیا کے کسی بھی حصے میں با آسانی Communicateکیا جاسکتا ہے۔لیکن انگریزی سیکھنا اور علم حاصل کرنا دو الگ الگ چیز ہیں۔
لیکن اس کی اہمیت کے باوجود ہماری اپنی زبانوں کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کر سکتے کیونکہ یہی زبانیں ہماری روز مرہ کی زندگی میں اپنی اہمیت کا احساس دلاتی ہیں اگر ہم انگریزی زبان کو ضرورت سے زیادہ اہمیت دیں گے تو اس کے اثرات کچھ اس طرح سے ہونگے کہ ۔۔۔۔کوا چلا ہنس کی چال ۔۔ اپنی چال بھی بھول گیا ۔ اگر ہم اپنی زبانوں میں نصاب تعلیم اسکول سے لیکر یونیورسٹی کی سطح تک تیار نہیں کر سکے اور مضبوط پالیسیاں نہیں بنا سکے تو یہ ہماری حکومتوں کی نااہلی ہے۔ 
ہمارے ملک میں انگریزی کا رجحان ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کا منہ بولتا ثبوت پاکستان کے بڑے ملک میں انگلش لینگویج سینٹر کا وجود ہے جہاں لوگ اپنا پیسہ اور وقت گزار کر اس زبان سیکھنا چاہتے ہیں۔غور طلب بات یہ ہے کہ انگریزی کے استعمال سے ہم انگریز تو نہیں بن جائینگے۔