ڈاکٹر اقبال سعید خان ممتاز ماہر ماحولیات

انٹرویو: سائرہ ناصر

ڈاکٹر اقبال سعید خان 
( ممتاز ماہر ماحولیات)
انٹرویو: سائرہ ناصر

ڈاکٹر اقبال سعید خان ماہر ماحولیات کے طور پر جانی پہچانی شخصیت ہیں۔وہ ایم بی بی ایس اور قانون کی ڈگری بھی رکھتے ہیں ۔ وہ حکومت سندھ میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہیں۔ 
ْ
س : آپ نے ماحولیات جیسے مشکل سبجیکٹ کاانتخاب کیوں کیا؟
ج :اس کی دو اہم وجوہات ہیں۔اول یہ اسٹڈی بیک گراؤنڈ اور دوسرا میری ذاتی دلچسپی۔مجھے آس پاس کے ماحول کو خوشگوار بنانے کا بہت شوق تھا بلکہ اس کی باقاعدہ تربیت مجھے اپنے اساتذہ اور فیملی سے ملی۔
س : پاکستان ماحولیاتی آلودگی سے کس کس طرح متاثر ہورہاہے؟
ج : پاکستان میں ماحول کی آلودگی کی ایک وجہ غیر معیاری وہیکلز کا دھواں ہے ۔ دوسرا پانی ہے جو براہ راست نہ صرف سینکڑوں انڈسٹریوں میں استعمال ہونے کے بعد دریاؤں اور سمندروں میں جاتا ہے بلکہ کئی جگہوں پر لوگ اسے پینے اور دیگر استعمال میں بھی لاتے ہیں جس سے اُن کی صحت متاثر ہوتی ہے اورلوگ مختلف بیماریوں کا شکار ہو تے ہیں۔اس سے ذیادہ تر مضافاتی علاقوں کے لوگ متاثر ہورہے ہیں۔ 

س: ماحولیات کو کنٹرول کرنے اور اس کو خوبصورت بنانے کے لیے کن اقدامات کی ضرورت ہے؟
ج: سب سے پہلے تو وہ چیزیں جو ماحول میں خرابی کا باعث ہیں ان کو نہ صرف جاننا ہوگا اور ان کی روک تھام کے لیے از سر نو ایک لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا۔ دوسرا ان چیزوں کو دیکھنے اور سمجھنے کے بعد اس پر عملی اقدامات کرنے ہونگے جن میں سرفہرست شہر میں درختوں اگانے میں اضافہ کرنا ہے۔ اس کے علاوہ آبی پودے اور اُن کی دیکھ بھال کو سنجیدگی سے نہیں لیا جارہا۔ہمارے سمندروں کو’’تمر ‘‘کے جنگلات محفوظ بناتے ہیں،یہ سمندری طوفانوں کا راستہ روکتے ہیں۔اس کے لیے باقاعدہ آگاہی پروگرام مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔ ویسے پاکستان سمیت پوری دنیا میں ماحولیات سے آگاہی کے حوالے سے پروگرام مرتب کئے جاتے ہیں ۔پچھلے دنوں قطر کے شہر دمام میں ایک بین الاقوامی ورک شاپ منقعد کی گئی ۔ جس میں قطر یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹی اور گورکھ ہل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کا تعاون حاصل رہا۔اس سیمینار میں اُردن، عمان، عراق، کیوبا، جاپان اور پاکستان کے ماہرین ماحولیات نے شرکت کی اور دور دراز سے آئے ہوئے مندوبین کو بذریعہ لیکچر ماحولیاتی چیلنجز کے حوالے سے آگاہی دی۔ 

س: آپ نے قانون کی تعلیم بھی حاصل کی ، اسکی وجہ؟
ج: مجھے ماحولیات ، گورکھ حل کے لیے جب قانونی قدم اٹھانا پڑتا تو اسکے لئے لازمی تھا کہ قانون کی الف ب کا علم ہو۔ لاعلمی میرے کیس کو کمزور کر دیتی تھی۔ قانون کے دائرے میں اپنی بات کو درست منوا سکتا تھا اسی لےئے قانون کی ڈگری حاصل کی ۔

س: زندگی میں اتنی محنت اور بھاگ دوڑ کے درمیان کیا آپ نے اسکا مزہ بھی لیا؟
ج: جی ہاں میں اپنی زندگی کو بھرپور انداز میں گزارہ ہے اپنے گھر والوں اور خصوصی طور پر اپنی والدہ کو وقت دیتا ہوں ، ملک کے نامور ڈیزائنر کے لئے کپڑے بھی ڈیزائن کرتا ہوں اور اکثر فیشن شوز میں مہمانِ خصوصی کے طور پر بھی مدعو کیا جاتا ہوں۔ 

س: اتنی مصروفیات ہونے کی بعد بھی کس طرح وقت کو مینج کر پاتے ہیں؟
ج: اس بات پر میں قطعی نفی کرونگا کہ وقت نکالنا ممکن نہیں جو لوگ اس طرح کہتے ہیں وہ وقت کا استعمال نہیں جانتے اور جو شخص وقت کا استعمال نہیں جانتا وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ وقت کا استعمال آپ کے ہاتھ میں ہے اسے تقسیم کرنا ہنر ہے وہ جس کو حاصل ہے وہی کامیاب ہے۔