سرکٹ ہاؤس حیدرآباد

سمعیہ کنول

سرکٹ ہاؤس حیدرآباد ، شہر حیدرآباد کی ان قدیم عمارتوں میں سے ہے جو انگریزوں کی تعمیر کردہ ہیں اور تا حال زیرِ استعمال ہیں۔ سرکٹ ہاؤس حیدرآباد انگریزوں نے ۲۱۹۱ میں تعمیر کروایا تھاجو ان کے سرکاری افسروں کے لئے ایک مخصوص عمارت تھی جہاں دوسرے شہروں سے آئے ہوئے افسران صاحبان ٹھرا کرتے تھے۔آج بھی سرکٹ ہاؤس حیدرآباد اسی کام کے لئے استعمال کیا جاتا ہے مگر اب فرق اتنا ہے کہ اب یہ سرکاری عمارت حکومت پاکستان کے افسران کے لئے مخصوص کر دی گئی ہے۔
سرکٹ ہاؤس حیدرآباد میں رکنے والے ناموں میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے بڑے بڑے نام شامل ہیں ، جن میں بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح جو پاکستان وجود میں آنے کے قبل تشریف لائے تھے، اان کے بعد ذولفقار علی بھٹو ، ان کی دختر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید ،دورہ حکومت کے وزیر اعظم نواز شریف اور چیف منسٹر سندھ قائم علی شاہ موجود ہیں ۔
سرکٹ ہاؤس حیدرآباد میں رہل پہل زیادہ نہیں ہوتی مگر جب منسٹروں کی آمد کا امکان ہوتا ہے تو یہاں کی رونق اور سکیورٹی بہت بڑھادی جاتی ہے، مین سرکٹ ہاؤس کی بلڈنگ میں صدر پاکستا ن ،وزیراعظم اور پاکستان کے سیاستدانوں کے بڑے نام ٹھرا کرتے ہیں اسی ہاؤس کے احاطے میں ایک NXCنامی بلڈنگ موجود ہے جہاں قومی،وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے منسٹر ٹھرا کرتے ہیں ،مین سرکٹ ہاؤ س ایک خوبصورت بلڈنگ ہے جس میں افسران کے کمروں کے علاوہ ایک میٹنگ حال موجود ہے جہاں سے منسٹر صاحبان پریس ریلیفس اور پریس کانفرنسس کرتے ہیں اگر وہ حال مہمانوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے چھوٹا پڑتا ہے تو پریس کانفرنس وہاں موجود ایک گارڈن میں منعقد کی جاتی ہیں ،جہاں خوش رنگ اور خوشبودار پھول اس بلڈنگ کی خوبصورتی بڑھاتے اور اسے مہکاتے ہیں۔
سرکٹ ہاؤس حیدرآباد کی سکیورٹی کے تمام فرائض ڈپٹی کمشنر سنبھالتے ہیں اور اس بلڈنگ کے نظم و نسق کی تمام ذمہ داریاں بھی ڈپٹی کمشنر کے پاس موجود ہوتی ہیں ،کسی بھی منسٹر ، چیف منسٹر ، وزیراعظم یا صدر کی آمد سے پہلے ڈپٹی کمشنر یہ اطلاع سرکٹ ہاؤس پہنچا دیتا ہے اور انہیں سیکیورٹی خدشات کی بناء پر پابند بھی کرتا ہے کہ اس متعلق کوئی بھی معلومات باہر نہ جا سکے تاکہ کسی بھی غلط رونما ہونے والے واقعہ سے بچا جا سکے۔
محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پاکستان کے مختلف سرکٹ ہاؤسس کا جلاؤ گھیراؤ کیا گیا تھا مگر سرکٹ ہاؤس حیدرآباد کو یہ شرف حاصل ہے کہ نا اس بلڈنگ کا کوئی شیشہ ٹوٹا اور نہ کوئی ٹائر اور پیٹرول پمپ اس کی نظر کیا گیا۔ سرکٹ ہاؤس حیدرآباد کو کسی طریقے کا جانی و مالی نقصان نہیں پہنچا یا گیاتھا ۔
ہر دورہ حکومت میں سرکٹ ہاؤس حیدرآباد میں منسٹروں کی آمد کا سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے،وزیراعظم پاکستان نواز شریف اپنی پچھلی حکومت میں سرکٹ ہاؤس حیدرآباد تشریف لائے تھے اور ۴۱۰۲ میں قائم علی شاہ کی آمد واقع ہوئی تھی۔حیدرآباد صوبہ سندھ کا دوسرا بڑا شہر ہے چناچہ یہاں قومی، صوبائی اور وفاقی حکومت کے ممبران کی آمد کا سلسہ زیادہ وقت تھمتا نہیں دکھتا۔