حیدرآباد کا چھوٹاچارلی چیپلین

سمرا شیخ

’’جینا یہاں مرنا یہاں۔۔۔اس کے سوا جانا کہا۔۔۔‘‘ کچھ لوگوں کی زندگی واقعی اس گانے کی مانند ہے۔وہ ایک ہی جگہ پر اپنی ساری زندگی وقف کردیتے ہیں۔او ر ا س ہی جگہ کو اپنی آخری جگہ بنا دیتے ہیں۔اس دنیا میں بہت سے مزاحیہ کردار ہیں جو اپنی پرواہ کیے بغیر ہمیں خوش کر تے ہیںِ ۔ایک ایسا ہی کردار حیدرآباد کے ریسٹورنٹ POINT300ُمیں ہے۔وہ کارٹون کریکٹر کا ڈریس اپ کر کے بچوں اور بڑوں کے لیے مخصوص بن رہا ہے ۔یہ ہیں محمد جمن جو بچوں کے لیے MICKEYMOUSEٰٰٰ کے نام سے وہاں جانے جاتے ہیں۔

بیس سالہ پاجمن پانچ سال سے یہاں کام کر رہے ہیں ۔ سجا گو ٹھ کے رہائشی محمدجمن کے والد کھیتی باڑی کا کام کرتے ہیں وہ اپنے گھروالوں کو زیادہ خوشحال رکھنے کے لیے چارلی چیپلین بن گئے ہیں۔MICKEYMOUSE کے گیٹ اپ میں محمد جمن چارلی چیپلین سے لے کر مائیکل جیکسن تک کا روپ د ھار لیتا ہے ۔ مزے مزے کے چٹکو ں سے بچوں اور بڑوں کو گدگودانا اور بریک ڈانس کر کے مزے کو اور بڑھانا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔بظاہر ہمیں یہ لوگ بہت خوش نظر آتے ہیں ۔ لیکن وہ یہ سب اپنی مجبوری کی وجہ سے کرتے ہیں ۔ 
محمد جمن مائیکل جیکسن کے بہت بڑے فین ہیں اوربریک ڈانس بھی خوب جانتے ہیں ۔بچے ان سے متاثر اور خوش بھی ہوتے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کے ہم لوگوں کے لیے خوشی کا باعث تو بنتے ہیں لیکن یہی لوگ کبھی کبھی ا ہمیں د ھتکار دیتے ہیں اور ان کو غریب ہونے کا طعنہ بھی مارتے ہیں ۔یہ بات انہیں ناگوارگزرتی ہے۔محمد جمن کے ساتھ سولہ سالہ رضوان بھی اسی شعبہ میں کام کرتا ہے۔ دونوں کا کہنا ہے کہ ’’ہم بھی پڑھ لکھ جاتے تو آج عزت سے رہ رہے ہوتے ۔لیکن مجبوری انسان کو کہاں لا کر کھڑا کر دیتی ہے، یہ بات وہ ہی سمجھ سکتا ہے جس پر گزرتی ہے ۔ہمارا بھی حق ہے کہ ہم خوش رہیں ،سکون کی زندگی گزاریں ، لوگ ہم سے اچھی طرح سے بات کر یں لیکن ان سب کے لیے ہم تب تک اچھے ہیں جب تک ہم انھیں ہنسارہے ہوتے ہیں ۔‘‘

زندگی بھی زمین کی طرح ہے جہاں موسم کی طرح تبدیلیاں آتی رہتی ہیں ۔ سکندر صنم پاکستان کے نامور مزاحیہ کرداروں میں جانا جاتا ہے ۔وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے۔انھوں نے اپنی کامیڈی سے لوگوں کا دل جیت لیا ہے ۔انہوں نے بھی مجبوری اور غربت کی وجہ سے ہی اس کام کو اپنایا ۔شاید ہی کوئی اس بات کو سمجھ سکتا کے دوسروں کو خوش کرنے والا خود اندر سے خوش نہیں ہوتا ۔

محمدجمن کو یقین ہے کہ ایک دن اس کی بھی زندگی تبدیل ہوگ چہروں کو روشن کرتے ہیں مسکراہٹ پھیلاتے ہیں ان کے آنسوں دور کرتے ہیں لیکن اپنے آنسوں چھپانے کے لیے ہم ان کی خوشی میں پیش پیش رہتے ۔
ہم میں سے زندہ وہی رہے گا جو دلوں میں زندہ رہے گا 
اور دلوں میں زندہ و ہی رہتے ہیں جو آسانیاں بانٹتے ہیںِ ،محبتیں بانٹتے ہیں 
ایسے لوگ ہی اپنی صلاحیتوں کی وجہ سے آج تک زندہ ہے محنت ہی انسان کو آگے بڑھنے کا موقع دیتی ہے ۔محمد جمن بھی اسی حوصلے اور جذبے کے ساتھ اور محنت ولگن سے اپنے اس شعبے کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔ کیا کوئی اس کیو پروموٹ کرنے والا ہے؟ جو ان کو ایک ماناہا ماکیڈین بنا دے یا پھر وہ حیدرآباد کے کسی چھوٹے سے ہوٹل پر اسی طرح زندگی گزار دے گا؟

وہ اپنی زندگی کوتھوڑا فلمی کرداروں سے بہت متاثر ہو کراپنے اس پیشے کو شارخ خان کا ایک ڈائلاگ کہتے ہیں: ’ ’ دل توں سبھی کے پاس ہوتا ہے لیکن ہر کوئی د ل والا نہیں ہوتا‘‘ 
ہمیں بھی محمد جمن کی طرح اپنا دل بڑا رکھنا چاہیے ۔ زندگی ہنسی خوشی بسر کرے ۔