پولیس سپاہی سے گرافک ڈیزائنر تک پرو فا ئل :قا ضی محمد طاہر شیخ

محمد بلال حسین صدیقی

بڑے کام کرنے کے لئے بڑی عمر کی نہیں بڑے عزائم کی ضرورت ہوتی ہے ۔ قا ضی محمد طاہر شیخ بھی مضبوط عزائم کے ساتھ ۱۴ اگست ۱۹۸۷ ء کو حیدرآباد میں پیدا ہوئے آپ کے دادا مقھیہ تھے جو قاضی کے نا م سے مشہور تھے تو انہوں نے بھی اپنے نام کے ساتھ لفظ قاضی کو منسلک کردیا۔ طاہر کی شخصیت میں اپنے دادا کی طرح رہنما بننے والی خصوصیات تھیں اسی لیے اپنے والد کی طرح گورنمنٹ ملازمت پررکنے کے بجائے اونچی اڑان لی۔طاہر اپنے والد کے لئے وہ کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں جسکے بعداولاد والدین کا فخر بن جاتی ہے۔ 
انہوں نے لطیف نیا زی سکول سے میٹرک ، گو ر نمنٹ ڈگری کا لج سے انٹر اور پھر بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ ملازمت کی تلاش میں جگہ جگہ کوشش کی پر مایوس نہیں ہوئے اور بلآ خروقتی ضرورت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے سندھ پولیس میں کانسٹیبل کی حیثیت سے بھرتی ہوگئے۔ لیکن لگن اور بے انتہا کوشش کے باوجود بھی ترقی نہیں کرسکے اور انہوں نے گورنمنٹ ملازمت چھوڑ دی ۔
پولیس کی ملازمت چھوڑنے کے بعد طاہرنے تعلیم کی کڑی کو دوبارہ جوڑا اور ایم۔اے انگلش میں ایڈمیشن لیاساتھ ہی کمپیوٹرکے شارٹ کورسز کے لئے بھی داخلہ لیا جہاں سے انکی توجہ گرافک ڈیزائنگ کی طرف مبذول ہوئی ۔ انہوں نے ارینا ملٹی میڈیامیں داخلہ لیا جس کے بعد ان کے سوچنے کا طریقہ ہی بدل گیا اوراسی شعبہ میں کام شروع کیا ۔
قا ضی طاہر کو البتہ اس شعبہ میں ذیادہ وقت نہیں ہوا پر ماہرانہ صلاحیت انکے کام میں جھلکتی ہے۔ علم ایسی ندی کی مانند ہے جسکا بہتے رہنا لازمی ہے اور اس سے مستفید ہونا ہر ایک کا حق ہے، اس لئے طاہر اپنی مہارت نئی نسل تک پہنچا رہے ہیں انکا کہنا ہے کہ اس شعبے میں بہت وسعت ہے کیونکہ سوچ کے دریا کو قوزے میں بند نہیں کیا جا سکتا یہ بہت وسیع ہے جسے بس راستہ دکھانے کی ضرورت ہے۔ 
طاہر کے شاگردوں کا کہنا ہے کہ لوگ ہزاروں روپے خرچ کر کہے بڑے بڑے سینٹرز سے سند تو حاصل کر لیتے ہیں مگر ماہرانہ صلاحیت اور ہنرسے محروم رہتے ہیں، وہ اپنے شاگردوں پر بہت محنت کرتے ہیں اور انہیں کسی مقام پر دیکھنے کی آرزو رکھتے ہیں ۔ 
وہ صاف گو شخصیت کے مالک ہیں وہ ہر کام سیدھے اور صاف انداز میں کرنا پسند کرتے ہیں۔ انکے ساتھ کام کرنے والوں کا کہنا ہے کہ طاہر کی شخصیت میں ایک خوبی اور خامی یکساں طور پر پائی جاتی ہے اور وہ ہے انکی صاف گوئی وہ کوئی بات دل میں رکھنے کے بجائے صاف منہ پر کہہ دینا پسند کرتے ہیں جسکو سمجھنے والے لوگ پسند کرتے ہیں اور گرویدہ بن جاتے ہیں مگر کئی دفعہ لوگ لڑپڑتے ہیں کیونکہ سچی اور کھری بات برداشت کرنا ہر کسی کہ بس کی بات نہیں ۔ 
سادگی پسندطاہر کی خواہشات کی کوئی فہرست نہیں ہے ۔ انہوں نے اب تک ازدواجی زندگی کے لیے نہیں سوچا ہے انکا کہنا ہے انکی زندگی کا مقصد ابھی لا حاصل ہے اسلیئے وہ ابھی کوئی فیصلہ کرکہ توجہ بانٹنا نہیں چاہتے ہیں