حیدرآباد کا سول اسپتال

مریم ملک


سندھ کے دوسرے نمبر بڑے شہرحیدرآباد میں قائم سول اسپتال انتظامی لحاظ سے لیاقت میڈیکل یونیورسٹی کے ماتحت ہے ۔ ٹیچنگ اسپتال ہونے کے باعث اس اسپتال میں ھاؤس جاب کرنے والے ڈاکٹر س اور پوسٹ گریجوئشن کرنے والے ڈاکٹرس کے علاوہ حکومت سندہ کے محکمہ صحت کے مقرر کردہ ڈاکٹر ز بھی یہاں تعینات کئے ہوئے ہیں۔ 
یہ اسپتال 1881 میں میڈیکل اسکول کے طور پر قائم ہوا تھا۔ 1942 میں اسے کالج کا درجہ دیا گیا۔ اور اب لیاقت یونیورسٹی آف میڈکل اینڈ ہیلتھ سائنسز کے ماتحت ہے۔ 
یہ ہسپتال انتظامی تنازعات ، افسران کی عدم دلچسپی ،کرپشن اور مجرمانہ غفلت و خاموشی کے باعث شدید بد انتظامی کاشکار ہے ۔جہاں سندھ بھر سے آئے ہوئے مریضوں کو مشکلا ت اور مایوسی کا سامنا ہے۔بیشتر ڈاکٹرز واسٹاف وقت کی پابندی نہیں کرتے ، سو ل اسپتال کے کئی وارڈز اور ایڈمنسٹریشن بلاک موئن جو دڑو کا منظر پیش کررہے ہیں۔سندھ کے 15 سے زائد اضلاع کے لئے قائم و ا حد مرکزی سول اسپتال میں غریب مریض ہزاروں روپے خر چ کرکے علاج کی غرض سے اس اسپتال کا رخ کرتے ہیں۔

سالانہ کم وبیش ایک ارب روپے کی بجٹ ہونے کے باوجود سول اسپتال میں علاج کی سہولیات کا فقدان ،اکثر ادویات کی عدم فراہمی ، غیر معیاری ادوایات ، اسپتال میں سرکاری لیبارٹری ہونے کے باوجود مریضوں کو دیگر نجی لیبارٹری سے ٹیسٹ کرانے جیسے مسائل ہر مریض کا مسئلہ ہیں۔ 

سول اسپتال میں مریضوں کے لئے وارڈ میں ایک بھی بیت الخلاقابل استعما ل نہیں ،جہاں تک کہ تمام کے تما م واش روم کے دروازے ٹوٹے ہوئیں ہیں ، مریضوں اور ان کی عیادت کے لئے آنے والے ہزاروں افراد کو رفع حاجت کیلئے پانی تک کی سہولت مہیسر نہیں ہے۔

اسپتال میں وارڈ کے زیاد ہ تر پچھلے حصہ میں گندگی اور غلاظت کے ڈھیر بنے ہوئے ہوئے ہیں ایسا لگتا ہے سول اسپتال ،اسپتال نہیں گندگی اور غلاظت کا مرکز ہے ، اسپتال آنے کے بعد مریضوں اور رشتہ داروں کو شدید اذیت اور مایوسی کا سامنا کرپڑتا ہے ۔ انتظامی امور میں نااہل سیاسی وابستگی رکھنے والے افراد کو اسپتال کا میڈیکل سپرنٹینڈنٹ تعینا ت کئے جانے کے باعث اسپتال میں کرپشن ،مریضوں کو سہولیات کے فقدان پر افسران مفاہمت اور مجرمانہ خاموشی اختیار کئے رکھتے ہیں ۔جبکہ اسپتال میں زیادہ تر ڈاکٹر ز اور عملہ اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داری نبھانے کے بجائے خوش گپیوں میں مصروف رہتے ہیں جس کی وجہ سے اسپتال انتظامی لحاظ سے بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

سول اسپتال کے شعبہ ایمرجنسی سے لیکر گائنی، میڈیکل، ای این ٹی، بچکانہ وارڈ، برنس وارڈ، کارڈیک وارڈ یا انتہائی نگہداشت والے وارڈ میں جانے سے محسوس ہوتا ہے کہ کئے دن سے بیڈ شیٹس بھی تبدیل نہیں کی گئی ہیں۔ بدبوء کے اس عالم میں مختلف وارڈز میں زیرعلاج مریضوں کے ساتھ آنے والے ان کے اٹینڈنٹ بھی کئی بیماریاں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں۔
اسپتال میں مقرر کردہ انیک ملازمیں مختلف سیاسی جماعتوں کے رکن ہونے کے باعث کئی مہینوں تک اسپتال کی جانب آنے کی بھی زحمت نہیں کرتے۔

ایکسرے ، الٹراساؤنڈ، سی ٹی اسکن کے علاوہ دیگر ٹیسٹیں بھی کی جاتی ہیں، لیکن ان کی مقرر کردہ فیس کسی بھی خانگی لیباریٹری سے کم نہیں ہے، اس صورتحال کے باعث مریض یا مریضوں کے ساتھ آنے والے اٹینڈنٹ کو مالی طور پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔سول اسپتال کے بچکانا وارڈ میں قائم یونٹس ہوں یا گائنی وارڈ میں لیبر روم ، ہر جگہ جونئر ڈاکٹرس ہی نظر آتے ہیں، جن کی سپروائزنگ پوسٹ گریجوءئشن کرنے والے ڈاکٹر کرتے ہیں۔

اسپتال کے اسٹور روم سے ادویات کی چوری خبریں کئی بار اخبار ات کی زینت بن چکی ہیں۔ باوجود اس کے اسٹور کے انتظامات وہ ہی چلا رہیں، جن پر چوری کے الزامات لگتے رہے ہیں۔

سول اسپتال کا شہر میں قائم یونٹ سٹی یونٹ کہلاتا ہے، جب کہ جامشورو میں بھی اسی اسپتال کا یونٹ ہے، جہاں پر بھی وہ تمام وارڈز موجود ہیں، جو سٹی یونٹ میں ہیں۔فرق یہ ہے کہ سٹی یونٹ میں ایمرجنسی میں آنے والے مریضوں کا علاج کیا جاتا، جس کے لیے ایمرجنسی میں آپریشن تھیٹر کے علاوہ اور بھی آپریشن تھیٹر موجود ہیں،جبکہ اکثر آپریشن جامشورو میں کیے جاتے ہیں۔

اسپتال کے سابقہ ایم ایس ڈاکٹر رفیق الحسن کھوکھر، ڈاکٹر خالد قریشی اور دیگر کے خلاف محکمہ نیب میں مبینہ کرپشن کی تحقیقات بھی چل رہی ہے، جس میں امکانی گرفتاری کے خوف سے انہوں نے سندھ ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت بھی لے رکھی ہے۔ اس اسپتال کے بجٹ سے کرپشن کی کہانی عرصہ دراز سے چلی آرہی ہے، مگر اس کرپشن کے خاتمے کے لئے سنجیدگی کا کبھی بھی مظاہرہ نہیں کیا گیا۔یہ ہی وجہ ہے کہ کرپشن اس اسپتال کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے، اگر اس پہ قابو نہیں پایا جاسکا اور اسی طرح ہی اندھیر نگری چوپٹ راجاچلتا رہا تواس اسپتال کا حال بھی موئن جو دڑوجیسا بن جائیگا اور اس اسپتال میں علاج کی غرض سے آنے والے مریضوں کے لیے بھی یہ اسپتال کوس گھر بن جائے گا۔