محنت اتنی خاموشی سے کرو کہ کامیابی شور مچادے۔عبدالسلام انصاری

بلال مسعود

عبدالسلام انصاری نے نوشہروفیروز کے انتہائی غریب گھرانے میں آنکھ کھولی۔ آپ کے والد نوشہروفیروز میں ہندوں کے گھروں میں پانی بھرا کرتے تھے، جس کے عیوض انھیں کچھ رقم مل جاتی اور اسی سے ان کے گھر کا چھولا جلتا۔ چھ سال کی عمر میں ان کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا تھا جس کے باعث مشکلات میں اضافہ ہوگیا تھا۔ غربت کہ باوجود عبدالسلام کو تعلیم حاصل کرنے کا بہت شوق تھا ،دن میں بکریاں چراتے اور پانی بھرتے اور رات کے وقت سڑک پر لگی روشنی میں بیٹھ کے پڑھا کرتے۔چونکہ انسان کی کفالت کا ذمہ اس کائنات کے مالک کا ہے، وہ ضرور اپنے بندوں کے لیے ذریعہ بناتا ہے اسی طرح عبدالسلام کے لیے ان کے ماموں کو زمین پہ ذریعہ بنایا۔

تعلیم کے لیے جنون دیکھ کے آپ کے مامو ں نے تعلیم کا خرچ اٹھانے کا ذمہ اپنے سر لے لیا، جس کے بعد انھوں نے نوشہروفیروز سے میٹرک کی تعلیم حاصل کی جس کے بعد سندھ ایگریکلچرل کالج ٹنڈوجام سے انٹر کا امتحان پاس کیا، اور پھر بیچلرز(HONS) سائیل سائنس سندھ ایگریکلچرل یونیورسٹی ٹنڈوجام سے کیا۔ آپ کا کہنا ہے کے تعلیم ہی زندگی میں ترقی کے خزانے کی ایک انمول چابی ہے، تعلیم ایسا زیور ہے جو ہر صورت میں لازمی ہے۔ 
ؑ علم انسان کی غیبی آنکھ ہے جس کہ ذریعے وہ بہت کچھ دیکھ لیتا ہے
انھوں نے نہ صرف خود تعلیم حاصل کی بلکہ اپنے اکلوتے چھوٹے بھائی کو بھی تعلیم دلوائی اور اسے ڈاکٹر بنایا آپ کے بھائی آپکی بے انتہا عزت کرتے ہیں گھر کا کوئی فیصلہ آپکی منظوری کے بناء مکمل نہیں ہوتا ہے انکا کہنا ہے ہمارا بھائی بابا کی جگہ ہیں انکا سایہ تادیر سلامت رہے۔ تعلیمی سالوں کے درمیان ہی آپ نے ایٹامک انرجی سینٹرٹنڈوجام میں ملازمت اختیار کرلی ،تا کہ اپنی تعلیم اور گھر کا خرچ اٹھا سکیں ۔
ؔ اچھا انسان وہ ہے جو کسی کا دیا ہوا دکھ تو بھلا دے مگر کسی کی دی ہوئی محبت کبھی نہ بھلائے
ّّآپکو اس مقام تک لانے کے لیے انگلی پکڑنے والے ماموں کا احسان نہ بھولے۔
بائیس سال کی عمر میں آپ کی شادی ایسی خاتون سے ہوئی جو کہ آپ سے بہت ہی کم تعلیم یافتہ تھیں لیکن آپکی والدہ کی پسند تھی،اپنے مقابل کا جوڑ نہ ہونے کہ باوجود بھی آپ نے گلہ نہ کیا کیونکہ اطاعتِ والدہ نے ذبان کو الفاظ سے محروم رکھا 
وہ شخص کبھی کامیاب نہیں ہو پاتا جس میں ناکامی کا خوف کامیابی کی چاہت سے ذیادہ ہو
آپ نے تعلیم جاری رکھی اور پِسا کالج اٹلی سے ایم ایس سی کی ڈگری حاصل کی ۔
آپ نے سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام میں واٹر مینجمینٹ ریسرچ آفیسر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ تعلیم کا جنون انھوں نے اپنی اولاد کے اندر بھی منتقل کیا ۔ بچپن سے ہی زندگی اتنی کڑی، مشکل اور کٹھن ہونے کی وجہ نے عبدالسلام کے مزاج کو بھی تلخ اور کڑوا کردیا۔ بہت جلد غصہ ہوجانے والے اور جلد ٹھنڈا ہونے والے انصاری اصولوں کے بے انتہا پابندہیں اور کسی بھی صورت میں کوئی غلط بات برداشت نہیں کرتے انکے ساتھ کام کرنے والے لوگ کہتے ہیں کہ غصہ کرنے والا شخص دل کا صاف ہوتا ہے عبدالسلام صاف دل کے اور بے تحاشہ محبت کرنے والے انسان ہیں وہ مشکلات سے لڑتے لوگوں کی اپنی طرف سے ہر ممکن مدد کرتے ہیں ضرورت مند کی مالی مدد کرنا اور تعاون کرنا آپکے ہر ممکن کوشش ہوتی ہے جو ایک بااخلاق انسان کی نشانی ہے۔
جسم کو موت آتی ہے کردار کو نہیں، اپنے کردار کو بہتر بناؤ تاکہ موت کے بعد بھی تمہیں یاد کیا جائے
شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا مگرشوق کو پورا کرنے کے لیے مال کی ضرورت ہوتی ہے، عبدالسلام کو سیاحت کا بہت شوق ہے
تعلیم کی چابی سے حاصل خزانے سے انہوں نے اپنا شوق پورا کیا اور دنیا کے کئی ملکوں کی سیر کر چکے ہیں۔
لذت اور ذائقے کو پرکھنے میں ماہرعبدالسلام انصاری کھانے پینے کے بھی شوقین ہیں اور مختلف ڈشز کھانے کا شوق رکھتے ہیں ارسٹھ سال کی عمر ہونے کے باوجود بہترین صحت، جسم، قدوخال کے مالک ہیں۔ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ جان ہے تو جہاں ہے،صبح جلدی اٹھ کے ورزش کرنا اور بھرپور صحت بخش ناشتہ کرنا اور پھر اخبار پر نظر اور حالات سے واقفیت رکھنا اور تبصرہ کرنا انکا معمول ہے۔
خوش پوشاکی بھی انکا شیوہ ہے اور صرف ایک ہی انداز ان کی پہچان ہے کاٹن کا سوٹ اور وہ بھی کلف دار جسے وہ بہترین طور پر سنبھالنا بھی جانتے ہیں۔
رعب دار شخصیت کے مالک مگر موسیقی کے شیدائی بھی ہیں، آپ کو رفیع، جگجیت سنگھ،عابدہ پروین کی غزلین پسند ہیں اور سننے کا شوق ہے۔ عبدالسلام کا ماننا ہے کے موسیقی روح کو زندہ کر دیتی ہے، تسکین بخش ،سکون کا باعث ہوتی ہے۔
زندگی کی کشتی کو مشکلات کے سمندر میں سے کامیابی سے نکال کر کنارے تک لانے والے عبدالسلام انصاری اب اپنی نسل اور آنے والی نسل کے لیے اعلیٰ خواب رکھتے ہیں اور ان کی بہتری کے لیے کوشاں ہیں مگر مسلسل جہدوجہد اور محنت کی وجہ سے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب ہونے لگے اور دل کے عارضے کا شکار ہوئے جس کے بعد انہوں نے آٹھ سال قبل جنرل مینجر فوجی فرٹیلائیزر کمپنی کے عہدے سے ریٹائرمینٹ لے لی تھی اور اب گھر بیٹھ کہ اپنی دوسری نسل کے مسکراتے پھولوں کو دیکھ کی خوش ہوتے ہیں۔
عبدلسلام انصاری کا کہنا ہے کہ محنت اتنی خاموشی سے کرو کہ کامیابی شور مچادے۔