رکشہ

فرحانہ ناغڑ

رکشہ تین پہیوں پر مشتمل سواری ہے جو ایک بندہ چلاتا ہے اور سواریاں اٹھا تا ہے۔رکشہ لفظ سب سے پہلے ۱۸۸۷
میں ایجاد ہوا ۔رکشہ ایجاد ہونے سے پہلے لوگ سائیکل رکشہ میں سفرکیاکرتے تھے اور رکشہ بھی انہی سائیکل رکشہ کو دیکھ کر بنایا گیا 
ہے۔سائیکل رکشہ پیرں کی مدد سے چلنے ولا رکشہ ہے جو ابھی بھی بہت سی جگہوں پر چل رہا ہے۔لیکن سائیکل رکشہ کے بمقابل
پیٹرول سے چلنے والے رکشے کو زیادہ ترجح حاصل ہے کیونکہ یہ زیادہ آرام دہ اور تیز سواری ہے۔اسی لئے رکشہ ایک مشہور ایجاد
کے طور پر سامنے آیا۔
رکشہ جاپان میں ۱۸۶۹ میں ایجاد ہوا۔lzuni yasoka نے suzuki tokyjiroسے پارڑنرشپ
کر کہ رکشہ بنایا ۔گھوڑا گاڑی جو ٹکیو کی سڑکوں پر نظر آتی تھی رکشہ اسی سے متاثر ہو کر بنایاگیاہے۔رکشہ لوگوں کے لئے ایک
مفید سواری ہے جو سائیکل رکشہ سے زیادہ آرام دہ اور تیز ہے۔۱۹ ویں صدی میں رکشہ ایشین ممالک میں بھی مشہور ہوا۔اور
مردوں کے روزگار کے لئے مفید ثابت ہوا ۔۱۲ویں صدی میں رکشہ باقی ملکوں میں بھی مشہور ہوا اس وقت وہاں کے لوگ ٹیکسیوں 
میںیا سائیکل رکشہ پر سفر کرتے تھے تو اس وقت پیٹرول رکشہ ان کے لئے ایک مفید ایجاد تھی۔

 

رکشہ تھائیلینڈ کی سڑکوں پر بھی نظر آتا ہے اس کے علاوہ پاکستان بنگلہ دیش میں بھی استعمال ہوتا ہے۔رکشے 
کا خاکہ کنگ لویس نے اپنی بیماربیوی کے لئے بنایاتھا جوجاپان میں رہا کرتے تھے۔اس نے یہ فیصلہ کیا کہ کوئی ایسی سواری ہو جو
تیز بھی ہو اور آرام دہ بھی تو یہی سوچ کے اس نے رکشے کا خاکہ بنایا اورپھر رکشہ بننے کے بعد یہ تیزی سے ترقی کرتا رہا
اور دنیا بھر میں مشہور ہوگیا۔رکشے کو جاپان میں لوگman powered vechicleکے نام سے جانتے ہیں ۔رکشہ
جاپان میں دوسری ورلڈوار تک مشہور رہا اس کے بعد رکشے کی پیٹرول کی قیمتوں میں بدلاؤ شروع ہوگیا
پاکستان میں رکشہ لاہور میں بنایا جاتا ہے۔

اور جب سے رکشہ بنا ہے تب سے لے کر اب تک رکشے میں بہت بدلاؤ آگیا ہے پہلے رکشہ پیٹرول پر چلا کرتا تھا اس کے بعد ایل پی جی رکشہ چلا اور اب اس کے بعد سی این جی رکشہچل رہا ہے۔رکشے کو سی این جی رکشے میں منتقل کر کے ایک فائدہ یہ بھی ہوا ہے کہ اس سے ماحول میں آلودگی میں کمی آئے گیاور پیٹرول والے پرانے ماڈل کے رکشے بہت دھواں خارج کرتے ہیں جس سے ماحول آلودہ ہوتا ہے۔ سی این جی رکشہکچھ حد تک پیٹرول رکشہ سے بڑا ہوتا ہے اور آرام دہ بھی ہوتا ہے۔

رکشے کی قیمتوں میں پچھلے بیس سالوں میں ۵۰۰ گناہاضافہ ہوا ہے مہنگائی کے سبب پہلے جس جگہ کا کرایہ ۱۰ سے ۸ روپے ہوتا تھا اب اسی جگہ کا کرایہ ۶۰ سے ۷۰ روپے لیا جا رہاہے۔اگر دیکھا جائے تو آج کل رکشہ مہنگائی کے سبب مہنگا معلوم ہوتا ہے اور بہت سے لوگ رکشے کی سواری کو برداشت نہیںکرپارہے ہیں حیدرآباد میں تو جگہیں قریب ہے تو رکشہ استعمال میں آتا ہے لوگ بچوں کے اسکول کے لئے بھی رکشہلگواتے ہیں مگر کراچی جسے بڑے شہر میں لوگ مہنگائی کے سبب دور کی جگہ کے لئے بس سے سفر کرتے ہیں۔ 
 

بھارت کے شہر ممبئی میں رکشے کے حوالے سے ایک دلچپ چیز یہ بھی ہے کہ وہاں کی خواتین مرد کے شانہ بشانہ ہوکر
رکشہ چلا رہی ہیں۔ممبئی میں ان عورتوں کی تعداد تقریبا۴۶۷ ہے جو رکشہ چلا رہی ہیں ۔وہاں کے ٹرانسپورٹ آفیسر کا کہنا ہے
کہ رکشہ چلانے سے ان عورتوں کے اندر اعتماد پیدا ہوتا ہے۔وہاں کی حکومت نے باقائدہ ان کو ڈرایؤنگ کا لائسینس دے
دیا ہے ان کا کہنا ہے کہ جس طرح ابروڈ میں عورتیں ٹیکسی چلا رہی ہیں اسی طرح ہمیں بھی اپنے ملک کی عورتوں کو اس کام کی 
اجازت دے کر ان کا اعتماد بڑھانا چاہئے۔
پاکستان کے شہر لاہور میں بھی ایک خاتون ہیں جو رکشا چلا رہی ہے جس میں سواری وہ بس خواتین کی ہی 
اٹھا تی ہے اور اس رکشے کا رنگ گلابی رکھا ہے کیونکہ یہ صرف خواتین کو لئے ہے یہ رکشہ خاص طور پر خواتین کے لئے ہے جس
میں ڈرایؤر بھی خاتون ہے اور سواری بھی خواتین کی ہی ہوتی ہے۔آج کل کے دور میں رکشہ بہت کام آنے والی سواری ہے
جو لوگوں کے لئے آمدورفت کا ایک بہترین ذریعہ ہے جس سے لوگوں کو بہت فائدے حاصل ہیں۔

 

لوگوں کا کہنا ہے کہ رکشے سے ہمیں بہت سے فائدے حاصل ہیں سب سے اہم بچوں کا اسکول کا مصلح حل
ہو گیا ہے اس کے علاوہ سامان لانا لے جانا بھی رکشے میں باآسانی ہوجاتا ہے۔حیدرآباد میں ٹیکسی کی سروس نہیں ہیں تو جن
لوگوں کے پاس اپنی سواری نہیں ہے تو وہ لوگ رکشے سے فائدہ اٹھا لیتے ہیں اور رکشہ ان کی آمدورفت کے ساتھ ساتھ ان
کے سامان کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچادیتاہے۔قریب جانا ہو یا دور رکشہ ہر جگہ مفید ثابت ہوتا ہے۔اس میں باآسانی
اپنے سامان کے ساتھ جایا جا سکتا ہے۔