نظروں سے اُوجھل بلوچستان کا تفریحی مقام...پیر غائب

عدنان علی لاشاری

وطِن عزیز کو قدرت نے رعنائیوں سے بھرپور زمین عطا فرمائی ہے، یہاں فطرت کے تمام حسین رنگ بکھرے ہوئے ہیں ۔پاکستان میں کچھ پرُکشش مقامات ایسے بھی ہیں جن کی مماثلت دنیا کا کوئی سیاحی مقام نہیں کر سکتا۔دنیا کا عظیم سلسلہ کوہ ،برف پوش چوٹیاںِ، گلیشئیرزسے پگھلنے والے دریا ،سحرانگیز جھیلیں ،سر سبز مرغزار اور دنیا کی بلند ترین شاہراہ ریشم بھی یہیں واقع ہے جو دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی جانب کھینچتی ہیں ۔

دنیا کا بلند ترین میدان یا سطح مرتفع دیوسائی،ہزاروں فٹ کی بلندی پر واقع گھنے جنگلات اسی خطے میں ہیں، جو فطرت کے کینوس پر حسین تصویر کی صورت میں نطر آتے ہیں ۔سیاحوں نے ایسی وادیوں،سحر انگیز جھیلوں اور پراسرار مقامات کی سیر تو کی ہے مگر ایسے دل کش علاقے بھی ہیں جو صرف فلموں میں نظر آتے ہیں اور جنھیں دیکھ کر خواب سا گمان ہوتا ہے ۔ان علاقوں میں سے ایک سر سبز وشاداب اور دل فریب علاقہ پیرغائب بھی ہے جوبلوچستان کے ضلع بولان میں واقع ہے۔
 

پیر غائب کا علاقہ بے آب و گیاہ پہاڑوں کے درمیان ایک سر سبز و شاداب وادی کی صورت میں موجود ہے۔اس حسین علاقے میں پہنچتے ہی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم جنت کی وادی میں آ گئے ہیں اور جہاں نظر پڑ تی ہے وہیں کچھ لمحوں کے لیے ٹھہر جاتی ہے ۔چاروں طرف خوبصورت بھورے پہاڑ اوران میں سے چھم چھم کرتا صاف شفاف اور ٹھنڈا پانی، آبشار کی صورت بہتا ہے اور یہ حسین آبشار دو مختلف حصوں میں تقسیم ہو کر گرتی ہوئی پرُلطف نظارہ پیش کرتی ہے ۔آبشار کے دونوں حصوں کا پانی نشیب کی طرف بہتا ہوا ایک بہت بڑے تالاب میں مل جا تا ہے ۔

اس تالاب کے نیلے اور ٹھنڈے پانی میں سے منچلے آبی حیات دل افروز مناظر دکھاتے ہیں ۔تالا ب کے گرد بلند و بالاکھجور کے درخت ہوا کے زور سے جھومتے دکھائی دیتے ہیں جیسے خوش آمدید کہہ رہے ہوں۔یہ پرُاثر مناظرہمیں زندگی کی پریشانیوں سے دور ، سکون کی وادیوں میں لے جاتے ہیں۔ درختوں پر خوشی سے چہچہاتے رنگ برنگے پرند ے سریلے گیت پیش کر کے مزاج میں رنگینی پیدا کر دیتے ہیں ،پس جس جگہ بھی نظر پڑتی ہے وہ سحر انگیز نظارہ پیش کرتی ہے۔ پیر غائب کی سیر و تفریح کرنے کا مزہ بہار کے موسم میں آتا ہے کیونکہ ہر چرند پرند ،پھول بوٹا نیا سماں پیش کرتا ہے ۔ سردیوں کے موسم میں یہاں کا فی ٹھنڈ ہوتی ہے کیونکہ یہ سمندر سے 5,500 فٹ کی اْونچائی پر واقع ہے اور آبشار کا پانی برف میں تبدیل ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔
 

پیر غائب ، کوئٹہ سے 70 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔اس علاقے کا نام ایک بزرگ پر رکھا گیا ، جوبرسوں سال پہلے اپنی بہن ’’نانی‘‘کے ہمراہ لوگوں کو اسلام کی دعوت دینے کے غرض سے آئے تھے یہاں کے لوگ بت پرست تھے اس لیے وہ ان دونوں کے دشمن بن گئے اور یہاں تک کہ انھیں جان سے مارنے کی کوشش کی، تو بی بی نانی اپنے بچاؤ کے لیے بولان کی گھاٹیوں میں چھپ گئی اور کافی دیر رہنے کے بعد انکی موت واقع ہو گئی ۔بی بی نانی کا مزار بولان سے 15کلو میٹر کے فاصلے پر پل کے نیچے بنا ہوا ہے ۔ جبکہ پیر غائب چٹا نوں کے درمیان چھپ گیا پھر تھوڑی دیر بعد وہ غائب ہو گیا ،اور انکاکچھ پتہ نہ چلا۔اسی وجہ سے یہ علاقہ پیر غائب کے نام سے مشہورہے۔
 

پیر غائب کے ارد گرد کوئی بہترین ہوٹل موجود نہیں ہے جس کی وجہ سے سیاحوں کو کافی مشکلات درکار ہوتی ہیں ۔پی ۔ٹی ۔ڈی۔سی (پاکستان ٹوریزم ڈیولپمینٹ کارپوریشن ) نے زیارت میں ایک ہوٹل قائم کیا ہے مگر وہ سیاحوں کو خاصہ دور پڑتا ہے ،اس لیے لوگ اپنے ساتھ کھانے پینے کا سامان لاتے ہیں مگر کھا پی کر وہی کچرا پھینک دیتے ہیں جو اس جگہ کی خوبصورتی کو خراب کر رہا ہے ۔

اس کے علاوہ سال 2015 تا 2014 میں بلو چستان پر 14 دہشت گرد حملے ہوئے جس کے باعث سیاحت پر برا اثر پڑا ہے اور پیر غائب جیسی تسکین بخش تفریحی علاقے ویرانگی کی نظر ہو گئے ہیںِ۔حال ہی میں خصوصی طور پر وزیراعظم نواز شریف نے پی۔ٹی۔ڈی۔سی کے میننیجینگ ڈائریکٹر چودھری کبیر احمد خان کو ہدایات دیں ہیں کہ بلوچستان میں سیاحت کو بہتر بنایا جائے ۔اسکے لیے ہوٹل کے اخراجات کو کم کرنے ،گرمیوں کے تفریحی پیکیجوں کو متعارف کرانے اور سیاحوں کے جان و مال کی حفاظت پر زور دیا۔
پہاڑوں میں پوشیدہ ہونے کی وجہ سے بھی پیرغائب کا علاقہ گم نام ہے اوراسی لیے یہاں تک ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی رسائی نہ ہو پائی۔