مہنگی تعلیم کی وجہ سے غریب کا بچہ معیاری تعلیم سے محروم

محمد بلال حسین صدیقی

کہنے کو تو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں امیر ہو یا غریب حکمران ہمیشہ یکساں کی بات کرتے ہیں لیکن حقیقت اِس کے برعکس ہے ۱۹۴۷ میں جب پاکستان وجود میں آیا تب سے اب تک غریبوں کو ہر شعبے کے معیار سے دور رکھا گیا ہے اب آ تعلیم کو ہی دیکھ لیجئے معنی سرکاری اسکولوں ، کالجوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ کتابیں ،کاپیاں یہاں تک کہ یونیفارم تک مفت ہے مگر وہاں نظامِ تعلیم کی دھجیاں اُڑائیں جا رہی ہیں اور طلبہء و طالبات کے مستقبل کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے.

جہاں ملکِ پاکستان میں غریبوں سے ہر ایک چیز دور کر دی گئی ہے وہی تعلیم کو کاروبار کی شکل دے کر غریبوں سے دور کر دیا گیا ہے جگہ جگہ قائم نجی اسکولوں ، کالجوں نے جہاں ایک طرف معیارِ تعلیم بڑھایا ہے وہی تعلیم کو مہنگا کر کہ غریبوں کی پہنچ سے دور کر ی دیا ہے سرکاری اسکولوں ، کالجوں کے اساتذہ اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہیں اور اپنے فرائض انجام دینے کے بجائے بھاری رقم کی وصولی کے لئے نجی اسکولوں ، کالجوں کو فوقیت دیتے ہیں جس کا نقصان صرف سرکاری اسکولوں ، کالجوں کے بچوں کو اٹھانا پڑتا ہے اور یاد رہے کہ یہ وہ ہی بچے ہوتے ہیں جو نجی اسکولوں ، کالجوں کی بھاری فیس دینے سے قاصر ہوتے ہیں.

ہر سال سرکاری اسکولوں ، کالجوں کو ملنے والا لاکھوں ، کڑوڑوں روپے کا فنڈ یوں ہی ضائع جاتا ہے اور لاکھ شکایتوں کے باوجود کوئی خاص اقدامات اٹھائے نہیں جاتے ابھی کچھ دنوں پہلے کی ہی بات ہے کہ الیکٹرونک میڈیا کے نجی چینل نے گھوسٹ اسکولوں ، کالجوں اور پروفیسروں کی خبر نشر کی تھی مگر اب تک اس کی روک تھام کے حلاف کوئی کروائی نہیں کی گئی
؂
سندھ کے تعلیمی بورڈ کا اندازہ تو بس اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہم آج بھی وہی کورس آوٹ لائین پڑھ رہیں ہیں جو آج سے ۳۰ سال قبل ہمارے بڑوں نے پڑھی تھی جبکہ نجی اسکولوں میں کلاس ۸ تک اکسفرڈ بورڈ پڑھایا جا رہا ہے جس سے سرکاری اور نجی اسکولوں کے طلبہء وطالبات کے درمیان تفریق پیدا ہو رہی ہے نجی اسکولوں، کالجوں میں تعلیم کا معیار معنی بہتر ہے.

مگر دوسری طرف وہی بھاری بھرکم فیس جس کی ادائیگی ہر کسی کے بس کی بات نہیں اور اگر فیس کی ادائیگی ممکن ہو بھی جائے تو کبھی کلر ڈے کے نا م پر نیا جوڑا تو کبھی کلاس ایکٹیویٹی کے نام پر ہزاروں ورپے کا سامان لوٹا جا تا ہے اور اگر کبھی کسی وجہ کی بناء پر ماہانہ فیس دینے میں ایک دو دن دیری ہو جائے تو بھاری مقدار میں جرمانہ بھی عائد کر دیا جاتا ہے تعلیم کی شکل میں نجی اسکولوں اور کالجوں کے نام پر ایک کاروبار چلایا جا رہا ہے جس کی بناء پر ایک کم کمانے والا شخص اپنے بچوں کو ان اسکولوں اور کالجوں میں داخلا نہیں دلا سکتے ۔

اب تو یہ بات صاف واضح ہوتی جا رہی ہے کہ تعلیم حاصل کرنا ہر ایک انسان کے بس کی بات نہیں کیونکہ تعلیم کے معمار اب تعلیم کے سوداگر بن چکے ہیں جہاں نجی اسکولوں میں تعلیم کو بہتر سے بہترین کی طرف لایا جارہا ہے وہی سرکاری اسکولوں پر کوئی خاص توجہ دی نہیں جا رہی اور سرکاری اسکولوں کالجوں کا حال بد سے بدتر ہوتا نظر آرہا ہے یہی وجہ ہے کہ غریبوں سے معیاری تعلیم دور ہوتی جا رہی ہے تعلیم وہ واحد چیز ہے جس سے انسان میں شعور بیدار ہوتا ہے اگر تعلیم کا یہ ہی حال رہا تو نہ تو شعور ہوگا اور نہ کوئی بیدار۔۔۔

اگر حکومت نے اس بات کو اب بھی اُسی طرح نظر انداز کیا جس طرح پچھلی کئی دھایوں سے ہوتا آرہا ہے تو وہ وقت دور نہیں کہ غریبوں کے لئے تعلیم حاصل کرنا مشکل سے ناممکن ہو جائے حکومت گھوسٹ اسکولوں ، کالجوں ، پروفیسرز اور نااہل اساتذہ کے خلاف سخت کروائی کرنی چایئے تا کہ سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں تعلیم کے معیار کوبہتر بنایا جاسکے ورنہ تعلیمی شرح مذید گرتا چلا جائے گاجس کا نقصان ہمارے ملک پاکستان کی معشیت کو اٹھانا پڑے گا.

حکومت کو ان اقدامات کے علاوہ ’ تعلیم سب کے لئے ‘ کا نعرہ لگانے کے بجائے تعلیم واقعی سب کی لئے یکساں کرنی ہوگی تاکہ امیر ہو یا غریب سب ایک جگہ بیٹھ کر یکساں تعلیم حاصل کر سکیں ۔جس کی وجہ سے امیر و غریب کے درمیان فرق ختم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پڑھے لکھے پاکستان کا خواب نہ صرف سچا ہوگابلکہ ملک میں ترقی و خوشحالی بھی آئی گئی۔

تاریخ گواہ ہے کہ تعلیم سے ہی قومیں ترقی کرتی ہیں مگرجب تعلیم کا یہ حال ہو جو اس ملک میں ہے تو ہم ترقی کا وہ سفر طے کرتے رہیں گئے جو کبھی ختم ہونے والانہیں۔۔۔