"غلام علی بلوچ ''ڈرائیونگ انسٹرکٹر

سدرہ خالد

''زندگی ہر ایک انسان کو بہترین بنانے کا موقع ضرور دیتی ہے"
ایسے ہی بلوچستان سے تعلق رکھنے والا " غلام علی بلوچ" اسی ہی سوچ کا مالک ہے۔ جو اپنی محنت اور لگن سے آگے بڑھ رہا ہے۔جسےزندگی نےخودکوسنوارنےکاموقع دیا۔
کم عمری میں کام کی تلاش میں اور کاندھوں پر ذمیداریاں اٹھاۓ حیدرآباد آیا۔ اسٹیٹ لائف کی بلڈنگ جو اس وقت تعمیراتی مراحل میں تھی ، اس کے سامنے بنی بریانی بیچنے والی چھوٹی سی دکان میں ویٹر کی حیثیت سے کام کیا ۔

جس سے اس نے دن کا آٹھ روپے کمانا شروع کیا۔ ان پیسوں سے اسکی ضروریات پوری نہ ہونے کے سبب اس نے قاسم آباد کے ایک گھر میں بطور نوکر ملازمت شروع کی۔ جہاں سے وہ مہینے کا 700 روپے کمانے لگا اور اپنی سہولت کے لیے 20 روپے کی قسطوں پر خود کے لیے ایک سائیکل خریدی۔ وہ زیادہ کمانا چاہتا تھا تا کہ گھر والوں کو ایک اچھی رقم بھجوا سکے۔ جدھر ملازمت کرتا تھا وہیں کے ملازم جو اس گھر کا ڈرائیور تھا گاڑی سیکھنے کا مشورہ دیا۔
جس استاد نے اسکو گاڑی چلانا سکھائ وہیں اسے معاشرے کے رموزو اوقاف، ادب و آداب ، رہن سہن سے آگاہ کیا۔انھی استاد نےغلام علی کی زندگی بدل دی۔ 
یہاں سے اسے 5 ہزار ماہانہ ملنے لگے جو آدھے گھر بھجواتا اور آدھے جمع کرنے لگا۔ کراۓ پر گھر لیا اور اپنے گھر والوں کو اپنے پاس بلالیا۔ انتھک محنت کے بعد خود کے لیے ایک اپنا گھر کرلیا۔ چند مویشی خریدے جن سے کاروبار شروع کیا۔ جسکی زمیداری اپنے چھوٹے بھائ کے سپرد کردی۔ 
سبحان الّلہ ڈرائیونگ سینٹر کے نام سے کاروبار شروع کیا۔
یہ وہ شخص ہے جس نے قلم تک نہیں کبھی اٹھایا۔ جو تعلیم سے ایک فیصد بھی آشنا نہیں۔ جسے اپنا نام تک لکھنا نہیں آتا ، بیشک وہ ان پڑھ ہے مگر پڑھی لکھی سوچ کا مالک ہے۔
والدین کو اپنی کامیابی کا ذریعہ سمجھتا ہے۔ ماں باپ کی اتنی عزت کرتا ہے کہ دن کا آغاز اور دن کا اختتام ان کے قدموں کو چوم کے کرتا ہے۔
اس کا ماننا ہے کہ میری ہر مشکلات کا میری تکالیف کاحل میرے والدین کی دعائیں ہیں۔ 
آج میرا اپنا سبحان اللّلہ ڈرائیونگ سینٹر ہے۔ جو کل تک دوسرے کی گاڑی چلاتا تھا آج اسکی خود کی گاڑیاں ہیں۔ جو کل تک کسی کے گھر میں ملازم تھا آج اسکا اپنا گھر ہے۔ جو کل تک ماہانہ 700 کماتا تھا آج ماہانہ 80،000 روپے کما رہا ہے۔ 
جیسے اس کے استاد نے اسکی زندگی سنواری آج وہ لوگوں کی زندگیاں سنوار رہا ہے۔ اور آج وہ آگے بڑھنے کے لیے اور محنت کر رہا ہے۔