حیدرآباد میں گداگروں کی بھرمار

رحما ٹالپر

تاریخ  لکھنے والوں نے ھمیشہ غریب  طبقوں کو تاریخ سے علیحدہ کردیا ہے ہمیشا ایسے طبقے کو عليحدہ سمجھا ہے۔ سماج میں امیر اور غریب کے بیچ میں ایک بڑی دیوار حائل ہے۔ فقیروں کا تعلق بھی ایک ایسے طبقے سے ہے جن کا دارو مدار امیروں کے رحم و کرم پر ہے۔ہر مذہب میں خیراتی کاموں کو پسند کیا گیا ہے۔
سماج کے گداگروں کا ایک ایسا گروہ جسے سماج میں ہر طرف نھایت حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔جب تاریخ میں ان کا ذکرآتا ہے تو امیر طبقے کا امیج بھتر کرنے کی خاطر اس طبقے کو سماج میں رعائیش حاصل کرنے والا طبقا دکھایا جاتا ہے۔جرمن فلاسفر کا کہنا ہے کے ھمدردی رحمدلی کے اخلاقی اقدار سماج میں غریب لوگوں کے طبقے کو فوقیت دینا ہے۔فقیروں کے کتنے ہی اقسام ہیں رومن فلاسفر سینیسا کا کہنا ہے رومن بادشاھت کے زمانے میں بھی پروفیشنل فقیر ہوا کرتے تھے اس زمانے میں بھی لوگ بچوں کو اغوا کر کے ان کے بازو یا ٹانگ توڑ کر ان سے بھیک منگواتے تھے۔بھیک میں ملی ہوئ رقم وہ اپنے بڑوں کو دیتے تھے جس کے بدلے میں وہ صرف ان کو کھانا وغیرہ دیتے تھے يہ سلسلا آج تک جاری ہے۔
کچھ مذاہب میں بھیک مانگنے کو خدا پرستی کا جذبا کہا گیا ہے بدھ دھرم مرد اور عورت پکشو(فقیر)موجود ھیں۔جب کے اس مذھب میں عورت کو کوئ ملکیت رکھنے کا کوئ حق نہیں ہے اور نا ہی معاشرے سے کوئ تعلق۔
ہمارے سماج میں جاگیرداری کلچر کے سبب ان میں زیادتی آیی ہے امیر اور دولتمند لوگ غریب اور بھوکے لوگوں کو کھانا کھلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس عمل کے ذریعے وہ معاشرے میں اپنی عزت بڑھانا چاہتے ہیں۔ تو  خیرات کے ذریعے نا تو غربت ختم کی جاسکتی ہے اور نا خوشحال معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
معاشرے میں بھیک مانگنے والا مرض صرف حکومت کی طرف سے تعلیم صحت روزگار اور لوگوں میں فلاحی کاموں میں ذمیداری ڈالنے سے ختم ہوسکتا ہے۔
فقیر ایک ایسی مخلوق ہیں جو ہر پاس پڑوس میں بس اسٹاپ مزاروں پر ہسپتال ہر جگا پر نظر آتے ہیں۔فقیروں میں معصوم بچے بھی شامل ہوتے ہیں۔ جو ہرگذرنے والے سے خیرات مانگتے نظر آتے ہیں۔ بھیک مانگنے والی عورتوں کی بہت تعداد گلیوں روڈوں پر نظر آتی ہے جو اپنے معصوم بچوں کو اٹھاۓ ان کو خیرات کے لیے استعمال کرتی ہیں۔
حیدرآباد شھر میں فقیروں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔جو مختلف حصوں میں بٹے ہوۓ ہیں۔ جن میں قاسم آباد وحدت کالونی بکرا منڈی ریلوے اسٹیشن لطیف آباد سول اسپتال ھیرآباد مشھور ایریا ہیں۔ حیدرآباد علاقے مشھور بلال ہوٹل ہے جس کا مالک ارفان ہے وہ خاص فقیروں کے لیے مخصوص ہے یہاں روزانا چالیس سے پچاس فقیر کھانا کھاتے ہیں۔ روزانا دو وقت کا کھانا دیا جاتا ہے۔ کبھی دال سبزی کبھی گوشت دیا جاتا ہے۔ 

ہوٹل پر لوگ خیرات صدقا وغیرہ کے پیسے جمع کراتے ہیں جن سے ی ہوٹل چلتا ہے۔ وہیں موجود فقیر جس کا نام پیر محمد ہے جن کا تعلق سبزی منڈی سے ہے اس نے بتایا ک وہ پہلے مذدوری کرتا تھا جس سے وہ تین چار سو روزانا کاماتا تھا اس کے سارے گھر والے کماتے ہیں لیکن وہ اپنی مرضی سے بھیک مانگتا ہے کیونکے وہ اس کی صحت پحلے والی نہیں جس کی وجہ سے وہ بھیک مانگنے پر مجبور ہوا بھیک مانگنے سے دو تین سو روپے مل جاتے ہیں جن سے وہ اپنی دوایاں وغیرہ لے لیتا ہے ایک دسرے فقیر جوڑے میاں بیوی نے بتایا جس کا نام الاہی بخش ہے  اور بیوی کا نام صفوراں ہے انھوں نے بتایا کے کچھ سال پھلے ہم خوشحال زندگی گذار رہے تھے عمر کے آخری حصے میں بے رحم اولاد نے دونوں کو نکال دیا ہے۔ پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے ہم بھیک مانگنے پر مجبور ہیں۔
فقیروں کی تعداد اتنی بھڑ گئ ہے ک ان سے تعلیمِ ادارے بھی محفوظ نھیں ہیں آپ سندھ یونیورسٹی کو دیکھ لیں وہاں فقیر اتنے زیادہ ہو گۓ ہیں کے شاگرد بھی ان سے محفوض نہیں ہیں ہر ڈپارٹمینٹ میں فقیر آتے ہیں اور شاگردوں سے بھیک مانگتے ہیں۔ اور ان کے پیچھے ہی پڑ جاتے ہیں بھیک لینے کے بغیر نہیں چھوڑتے۔ حکومت کے ساتھ ساتھ ہمارا بھی فرض ہے ہم پیشاور فقیروں کو پیسے نا دیں کے اس غلط کام کا خاطما ہوسکے اس کے علاوہ اپنے آس پاس رہتے ضرورت مندوں کا خیال رکھیں صفید پوش ضرورت مند لوگ ہی اصل  زکوات کے حقدار ہیں۔

 مہنگاہی اور بے روزگاری نہ فقیروں کی تعداد میں اضافہ کیا ہے سال دو ہزار دس پاکستان کی تاریخ کی بدتارین سیلابہ جس نے پورے ملک کے ساتھ ساتھ سندھ کو متاسر کیا ان میں جیکب آباد،کشمور ،شکارپور کمبر شدادکوٹ لاڑکانہ ، دادو ٹھٹہ اور سجاول شھر بہت ذیادہ متاسر ہوئے ان علاقوں کو لوگوں نے سیلاب کے سبب اپنی جانیں بچاتے ہوئے بڑے شھروں کا روخ کیا جس میں حیدرآباد شھر سرِپرست ہے تاریخ کے بدترین  سیلاب نےغریب لوگوں کے گھربار مال و ملکیت مکمل طور پر تباھ ہوگئے ایک تو پھلے ہی غربت بدحالی اوپر سے سیلاب نے تو لوگوں کو بے حال کر دیا وہ ابھی بھی حیدراباد شھر کی ثبزی منڈی سمیت مختلف علاقوں میں بد حالی کا شکار ہے جن میں سے اکثر پیشاور گداگر  بن چکے ہیں۔