غریب کا بچہ

علی اعزاز

پاکستان میں اگر بچوں کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوگا کہ ملک میں بیشمارایسے بچے ہیں ۔جوکہ جنت کے وعدہ پر بارود کی بگھی میں بیٹھ کر خود بھی قتل ہوگئے اور سینکڑوں کو اپنے ساتھ لے گئے اور بہت سے ایسے بچے بھی ہیں جن کا جان سے گزرنا اخباروں تک نہیں پہنچا اوربہت سے بچوں کو بھوک اور بیماری نے کھا لیا ان پر رونے والوں میں ان کے ماں باپ اور بھائی بہن ہیں ۔کوئی ان کا نام بھی نہیں جانتا ،وہ بس اعدادو شمار کا حصہ بن جاتے ہیں ۔بچوں کے بارے میں ہمارے ادبیوں اور شاعروں نے کتنی خوبصورت باتیں کہی ہیں کہ ہر بچے کی پیدائش اس با ت کا اشارہ ہے کہ خدا دنیا سے ابھی تک مایوس نہیں ہوا ہم سب بھی یہی کہتے ہیں کہ بچے دنیاکا مستقبل ہیں ان کی زندگی جتنی بہتر ہو گی اُتنی ہی دنیااور ترقی کرے گی ۔

پاکستانی قوانین کے مطابق حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ 14سال سے کم عمر کے بچے سے کسی فیکٹری ، کسی دکان یہ دوسرے خطرناک شعبوں میں کام نہ لیا جائے،یہ حکومت کی زمہ داری ہوگی کہ وہ ان کی جان کی حفاظت کرے اُن کی تعلیم اوراُن کی صحت کی حفاظت کو یقینی بنائے۔یہ سب کتنی دل خوش کردینے والی باتیں ہیں لیکن جب ہم ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان 2015میں انسانی حقوق کی صورتِ حال پڑھتے ہیں۔تو صورت حال اس کے بلکل برعکس دکھائی دیتی ہے۔

(I,O,L) کے مطابق ملک بھرمیں مزدور بچوں کی تعداد ایک کروڑ بیس لاکھ تک ہے اس صوت حال کے پیشے نظر پنچاب حکومت نے کچھ اقدام اٹھائے اور ایسے بچوں کو بھٹہ مالکان کے ظلم سے بچا کراسکولوں میں داخل کروایا ہے۔انھیں کتابیں ،کاپیاں مفت فراہم کیے جاتے ہیں ۔اوران کے والدین کو کچھ رقم بھی دی جا تی ہے تا کہ بچوں کی تعلیم پر کو ئی اثر نہ پڑے۔

اس کے علاوہ 2015کے دوران بچوں کے جسمانی اور جنسی تشدد،میں 85فیصداضافہ ہوا اور اسلام آباد میں 167بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گا جب کہ خیبرپختونخو اہ میں113بچوں کی بے حرمتی کی گئی اور سند ھ میں تو 97بچی اور بچیوں کو تشدد کے بعد قتل بھی کردیا گیا۔ کم عمری میں شادی جو قانونی طور پر جرم ہے ۔وہ بھی عروج پر رہی ۔یہ خبر تو پاکستان میں عام ہے کہ ایک باپ نے 12برس کی بچی کو اس جرم میں مار مار کرہلاک کر دیاکہ اس بچی کی پکائی ہوئی چپاتی گول نہیں تھی۔

ہم بچوں کے حقوق کی بات کر تے ہیں لیکن جب ان بچوں کو ہم اپنے گھروں میں ملازم رکھتے ہیں تو ان کے ساتھ ہم میں سے بیشتر کا سلوک ظالمانہ ہوتا ہے۔

کیا ہماری حکومت بچوں کے لیے نئے قوانین بنانے سے پہلے ان بچوں کے تحفظ کے لئے کو ئی اقدامات اٹھائے گی؟ سب سے بڑھ کر یہ کہ کیا ہم اپنے تمام بچوں کو مفت تعلیم دینے میں کامیاب ہونگے؟کیوں کہ غریب کے بچے کا دل بھی اتنا ہی آرزوؤں سے بھرا ہوا ہوتا ہے، جتنا ہمارے اپنے بچوں کا۔۔۔