ہڑتالیں اور احتجاج کا تعلیمی نظام پر منفی اثرات

ماریہ عائشہ

آج کے دور میں احتجاج اور ہڑتالوں کے باعث تعلیمی نظام کی بنیادی ساخت کو جو نقصان پہنچا ہے ،اسے بیان کر نا تھوڑا مشکل ہے۔ ملک میں آئے دن ہونے والی ہڑتالوں اور احتجاجوں نے تعلیمی معیار کوکم کر دیا ہے ،جس سے طلبہ کا رحجان تعلیم سے ہٹتا جا رہا ہے ۔سابقہ دنوں میں سندھ بھر کی یونیورسٹیوں کے اساتذہ نے ہڑتال کی ،جس کی وجہ سے کچھ یونیورسٹیوں میں چند دن تک بائیکاٹ رہا جس سے تعلیمی نظام مفلوج ہو کر رہ گیا تھا ۔ ایسی ہڑتالوں اور احتجاجوں سے پورے ملک میں تعلیمی معیار کم سے کم ہو تا جا رہا ہے ۔


احتجاج اور ہڑتالیں پہلے بھی ہوتی تھی لیکن ان احتجاج اور ہڑتالوں سے نظامِ تعلیم کو گہرا اثر نہیں پڑتاتھا۔لیکن آج کے دور کی بات کی جائے تو ہڑتالوں اور احتجاجوں سے ملک کے تعلیم کا نظام درہم برہم ہو کر رہ گیا ہے ۔ آئے دن ہونے والی ہڑتالیں اور احتجاجوں سے بچوں کے اسکولوں کی چھٹی ہوجا تی ہے ۔ جس سے بچے لکھنے پڑھنے سے رہ جاتے ہیں اور بچوں کا رحجان پڑھائی سے ہٹ جاتا ہے ۔
آئے دن کی ہڑتالوں اور احتجاجوں کی وجہ سے والدین اپنے بچوں کو اسکول بھیجنے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کا بچہ باہر ہو نے والی فائرنگ کا شکار نہ ہوجائے۔اس لئے ملک میں تعلیمی نظام تباہ ہو رہا ہے ۔ 


ہر ماں باپ کا خواب ہوتا ہے کہ اس کا بچہ ایک معیاری تعلیم حاصل کرے لیکن ان حالات کی وجہ سے بچے ہفتے میں صرف دو ہی دن اسکول جاپاتے ہیں کیونکہ باقی دن ہڑتالیں تو کہیں عام تعطیل ۔اگر ایسے ہی چلتا رہا تو کیسے ہمارا پاکستان ترقی یافتہ ملک بنے گا؟ یہ ننھے پھول جن کا تعلیم حاصل کرنا بنیادی حق ہے وہ اس سے محروم ہوجائیں گے ۔ ہو سکتا ہے کے آگے چل کر ان کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ جائے یہ مستقبل میں ایک ہونہار اور قابل انسان نا بن سکیں اور نتیجتاًیہ بچے اپنا پیٹ پالنے کیلئے بھیک کا سہارا لینے پر مجبور ہوجائیں ۔ تعلیم ہی ایک ایسا زیور ہے جس سے انسان میں شعور اور عقل پیدا ہو تی ہے اور اسی سے بڑوں کے احترام کا سلیقہ پیدا ہو تا ہے۔ اور اگر یہی احسن طریقے سے انجام نا پاسکی تو ان بچوں میں چھوٹے بڑے کی تمیز باقی رہے گی اور نہ ہی اچھے اخلاق ہونگے کیونکہ یہ سب انسان تعلیم سے ہی سیکھتا ہے ۔

تعلیم ہی ایسا خزانہ ہے جس سے عزت بھی ہے اور شہرت بھی۔ جیسے کہ ہمارے ملک کے کامیاب لوگوں کی مثالیں موجود ہیں، مثلاً، بے نظیر بھٹو صاحبہ جو ایک کامیاب خاتون ثابت ہوئی انھوں نے اپنا خواب تو پورا کیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے پاکستان میں تعلیمِ نسواں کیلئے آواز اٹھائی ۔ انہیں ان کے حقوق سے آراستہ کیا ۔ان ہڑتالوں اور احتجاجوں سے صرف تعلیمی نظام ہی متاثر نہیں ہو رہا بلکہ روز کمانے والے لوگوں کے کاروبار پر بھی برا اثر پڑتا ہے ۔

کیونکہ کئی گھرانے ایسے بھی ہیں جن کے گھر میں روز آنے والی آمدنی سے ہی چولہا جلتا ہے ۔ ہماری حکومت کو چاہیئے کہ ان ہڑتالوں اور احتجاجوں کو روکے تاکہ ہمارے ملک کے بچے با آسانی اور با محفوظ طریقے سے اسکول میں حاضری دیں اور والدین بھی اپنے بچوں کو بغیر کسی ڈر یا خوف کے اسکول بھیج سکیں اور وہ تعلیم حاصل کر کے ملک کا نام روشن کریں۔ ایسے ہی ہمارا پاکستان تعلیم یافتہ اور ترقی یافتہ ملکوں کی فہرست میں آسکے گا۔ (انشاء اللہ)*