کمپونڈرسے ڈاکٹر تک کا سفر

احسن علی

عقابی نگاہیں ،نتواں ناک اور اس پرٹہری عینک ، سرخ سفید رنگت اور علم کی کرنوں سے مغوربلند بخت پیشانی متجسس اورذہانت کا غمناز چہرہ کہ مالک ڈاکٹر سیداحمد علی شا ہ خوش مزاج او رہنس مکھ ایسے کہ عمر سے کئی چھوٹے بھی انہیں اپنا ہم راز بنا لیں اور رعب ودبدبہ ایسا کہ بڑے سے بڑا بھی ان کی شخصیت سے مرعوب ہوجائے ۔
ڈاکٹر سیداحمد علی شا ہ نے ۱۹۶۱میں حیدرآباد کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے، انہیں شروع سے ہی مختلف پریشانیوں کا سامنا رہا اور اسی کشمکش میں ان کی والد ہ انتقال کرگئی اور اسی غم میں وہ مایوس رہنے لگے تھے۔

کچھ عرصے بعد انہوں نے ایک ہسپتال میں کمپوڈرکی نوکری شروع کردی، اور پڑھنے کا بھی شوق تھا تو ساتھ ہی پڑھاہی بھی شروع کردی کہ انہیں ڈاکٹر ی کا شوق تھا پھر انہوں نے پرائیوٹ انڑمیڈیٹ کیا ،جس ڈاکٹر کے پاس کمپوڈر تھے انہوں نے ان سے آگے تعلیم کے حوالے سے مشورہ کیا اور اپنی مالی حالت بتائی تو اُس ڈاکٹر نے انہیں سرکاری اسکالرشپ کے بارے میں آگاہ کیا اور پھر وہ کمپونڈری کے ساتھ ساتھ اسکالرشپ کے امتحان کی تیاری کا آغاز کردیا اور پھر جب انہوں نے امتحان میں کامیابی حاصل کرلی تو انہیں سرکار کی طرف سے ڈاؤ یونیورسٹی میں داخلہ دیا گیا ۔کچھ عرصے بعدانہو ں نے ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرلی اورا پنے ڈاکٹری کا آغاز سرکاری ہسپتال سے کیا۔

ڈاکٹر سید احمد علی شاھ جنہیں صرف حیدرآباد میں ہی نہیں بلکہ وطن عزیز کے معروف حلقے بھی جانتے اور پہچانتے ہیں۔ ڈاکٹر نہ صرف صاحب اسلوب ، صاحب کردار اور صاحب کتاب انسان ہیں، بلکہ ایسے ڈاکٹر ہیں جو مریض کو دوائی دینے کے ساتھ ساتھ ان کے مسائل کا دیرینہ حل بھی بتاتے ہیں، انہوں نے اس مقدس فریضے کو اس خوبی سے آگے بڑھا یا ہے کہ ان پر عام طور پر فخر کیا جاسکتا ہے ۔
 
ڈاکٹر صاحب کی ذات، ایک نہیں ، بلکہ کئی جوانوں سے انتہائی معتبرو محترم ہے۔وہ نہ صرف ایک ڈاکٹر ہیں، بلکہ ایک مہربان باپ ، مشفق بھائی ، خیال رکھنے والے معلم اور بہترین انسان بھی ہیں ۔اس نفسانفسی کے دورمیں جب ہر شخص کو اپنی پڑی ہے لیکن ڈاکٹر صاحب سفید لباس میں ملبوس اور ناک پر عینک لگائے ہر وقت مریضوں کے لیے دستیاب ہوتے ہیں اور دیر رات یا جلدصبح کوئی ایمرجنسی آجائے تو اپنے فرض کی ادائیگی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔

ڈاکٹر صاحب نے اپنی زندگی کا قیمتی وقت سماجی تعلقات بنانے آرام و سکون کے لیے وقت کرنے یا اہل وعیال کے ساتھ گزارنے کے بجائے ان غریب و نادار مریضوں کے نام کردیا جو بڑے بڑے قصابوں کا شکار ہوچکے ہیں ہم روز بروز ایوانوں میں صحت کے انقلاب کی گونج توسنتے ہیں لیکن حقیقی صحت کا انقلاب لطیف آباد نمبر ۲/۶۰۰کی لائن کے کونے میں واقع گھر نما میڈیکل سینٹر میں آرہا ہے ۔میری تویہی دعا ہے کہ اللہ پاک ڈاکٹر صاحب کو لمبی عمر عطا فرمائے اور اس طرح زندگی کے پر خارستوں پر ہماری رہنما ئی کرتے رہیں ۔ آمین*