چوڑیاں! سنگھار یا شوق

مشائین جاوید

خواتین کے بناوٹ و سنگھار کی بات کی جائے تو اس میں ایک اہم چیز چوڑیاں ہیں ،بنا چوڑیوں کہ خواتین کا سنگھار مکمل نہیں ہوتا، قدیم زمانے سے یہ بھی مانا جاتا ہے کہ سہاگن کا سنگہار چوڑیوں کے بنا مکمل نہیں ہوتا۔یہی وجہ ہے کہ خواتین کو چوڑیوں کا شوق سنگہارمیں بڑی ضرورت ہوتی ہے۔

چوڑیوں کی کھن کھن جیسی سریلی آواز کانوں کو مسرت کا احساس دلاتی ہے، چوڑیوں کی بناوٹ کو تاریخ میں دیکھا جائے توبہت ہے۔پہلے زمانے میں عورتیں تانبے کی چوڑیاں استعمال کرتی تھیں،سی شیل ، تانبہ، سونا، سمندری سیپی ، کاشی، سفیہ قیمتی دھات، موتی کی بنائی جاتی تھی۔
 

چوڑیوں کا رجحان اور رواج موئن جو دڑو سے (2600-BC) میں شروع ہوا ، اس کے بعد انڈیا سے تانبے کی چوڑیاں بننا شروع ہوئی۔ ماہر چوڑی جو کچھ چمک دھمک والی تھیں وہ مغل موریاں (322-185-BCL) سونے کی چوڑیاں تاریخی اعتبار سے ٹیلسلا ( چھٹی صدی BCE ) ہلکی ڈیزائن والی چوڑیاں سمندری سیپی سے بنتی ہے ، چوڑیاں مغل دھاتوں سے بھی بنائی جاتی ہیں ان کی بناوٹ کو دیکھا جائے تو چوڑیوں کی بناوٹ گول دائرے کی سی ہوتی ہے چوڑیاں عام و خاص دونوں دھاتوں سے بنائی جاتی ہیں جن میں سونا، تانبہ، چاندی ،لکڑی اور پلاتینم وغیرہ شامل ہیں،چوڑیاں سمندری سیپی سے بنائی جاتی ہیں جو سفید رنگ کی ہوتی ہیں۔

یہ چوڑیاں شادی شدہ بنگالی عورتیں پہنتی ہیں جو پلاسٹک سے بنی ہوئی ہوتی ہیں، خاص طور پر بنگالی علائقے میں بنگالی چوڑیاں پہنائی جاتی ہیں جو کہ سونے کی ہوتی ہیں ذیادہ تر چوڑیاں ہاتھ سے بنائی جاتی ہیں ۔ 
پاکستان میں چوڑیوں کی بات کی جائے تو سب سے زیادہ مشہور چوڑیاں حیدرآباد (سندھ) کی ہیں ، حیدرآباد چوڑیوں کا ڈیزائن اور بنانے میں جو محنت درکار ہوتی ہے وہ قابل دید ہے ،حیدرآباد کی چوڑیاں اپنے خوبصورت ڈیزائن کی وجہ سے مشہور ہیں ،لوگ دور دور سے یہاں سے چوڑیاں خریدنے آتے ہیں۔

خواتین عید براد یا خاص موقعوں پر چوڑیاں ضرور خرید تی ہیں یا پھر تحائف کے طور پر بھی بھیجتی ہیں۔ اس کے بنا ان کی تیاری ادھوری ہوتی ہے، چاند رات میں چوڑیوں کے اسٹالز پر بے پناہ رش ہوتا ہے ، کپڑوں کے ساتھ میچنگ کی چوڑیاں لینا ضروری سمجھتی ہیں عورتوں کا یہ شوق دیکھنے کے قابل ہوتا ہے ،چوڑیوں کی چمک دھمک اور ان پر ڈیزائن اپنی طرف متوجہ کرتا ہے ، حیدرآبادی چوڑیاں بنانے میں خواتین بھی کام کرتی ہیں یہ بے حد محنت طلب کام ہوتا ہے ، چوڑیاں بہت سے ہاتھوں سے گزر کر ایک کہ ہاتھ کی زینت بنتی ہیں اور بازاروں میں سجی ہوئی چوڑیاں بازاروں کی زینت بنتی ہیں۔


چوڑیوں پہنے کا رواج بہت پرانا اور قدیم ہے اور یہاں عام طور پر بھی اور خاص موقعوں پہ بھی لڑکیاں چوڑیاں پہناکرتی ہیں ،چوڑیاں خواتین کے بناؤ سنگھار کو مکمل کردیتی ہیں چوڑیوں کی کھن کھن کرتی سُریلی سی آواز مزہ دوبالاکر دیتی ہے، چوڑیوں کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ چوڑیوں پر بے شمار گیت بھی بنائے گئے ہیں جو کہ خواتین اور بچیوں میں خاص طور پر مقبول ہیں *